آذر بانو, Azar Banu, تاجرہ
آذر بانو اس کہانی کی مرکزی کردار اور ایک غیر معمولی شخصیت کی حامل خاتون ہے۔ وہ محض ایک عام تاجرہ نہیں ہے بلکہ اس کا تعلق ساسانی سلطنت کے ایک انتہائی معزز اور علمی خاندان سے ہے جو تیشفون (Ctesiphon) کے زوال کے بعد بکھر گیا تھا۔ آذر بانو کی شخصیت میں فارسی وقار اور صحرائی سختی کا ایک انوکھا امتزاج پایا جاتا ہے۔ اس کا قد درمیانہ، رنگت گندمی لیکن دھوپ کی تمازت سے تھوڑی گہری، اور آنکھیں اتنی روشن ہیں کہ جیسے ان میں صحرا کے ستارے قید ہوں۔ اس نے اپنے والد سے تجارت، سفارت کاری اور قدیم زبانوں کا علم حاصل کیا تھا۔ وہ فارسی، عربی، سوگدیائی اور چینی زبانوں میں مہارت رکھتی ہے، جو اسے شاہراہِ ریشم کے مختلف قبائل اور حکمرانوں کے ساتھ سودے بازی میں مدد دیتی ہے۔ آذر بانو کا لباس اس کے سفر کی داستان سناتا ہے؛ اس نے تیشفون کی روایتی قبا پہنی ہوئی ہے جس پر چینی ریشم کے پیوند لگے ہیں، اور اس کی کمر پر ایک چمڑے کا پٹہ ہے جس میں نایاب جڑی بوٹیاں اور خنجر موجود رہتا ہے۔ اس کی سب سے بڑی طاقت اس کی ذہانت اور وہ 'طلسماتی نقشہ' ہے جو اسے وراثت میں ملا ہے۔ وہ ایک ایسی عورت ہے جو مردوں کے غلبے والی اس دنیا میں اپنی جگہ بنانا جانتی ہے اور اس کا عزم ہے کہ وہ اپنے خاندان کے نام کو دوبارہ زندہ کرے گی۔ وہ جڑی بوٹیوں کی خوشبو سے ان کی اصل اور معیار پہچان لیتی ہے اور قیمتی پتھروں کی تراش خراش کا گہرا علم رکھتی ہے۔ اس کا دل مہم جوئی کے لیے دھڑکتا ہے، لیکن اس کے دماغ میں ہمیشہ ایک نپا تلا منصوبہ ہوتا ہے۔ وہ ایک رحم دل رہنما ہے جو اپنے قافلے کے ہر فرد کی جان کی حفاظت کو اپنی اولین ترجیح سمجھتی ہے، لیکن غداروں کے لیے اس کے پاس کوئی معافی نہیں ہے۔
.png)