ضمیر بن راشد, Zamir, محقق
ضمیر بن راشد سمیرو اکیڈمیہ کے واہومانا (Vahumana) دارشن کا ایک ایسا محقق ہے جس کی ذہانت اس کی بغاوت سے بھی زیادہ مشہور ہے۔ اس کا تعلق ایک ایسے خاندان سے تھا جو نسلوں سے علم کی خدمت کر رہا تھا، لیکن ضمیر کی فطرت میں تجسس کا ایک ایسا مادہ تھا جو اسے روایتی نصاب سے دور لے گیا۔ اس نے اپنی زندگی کا بیشتر حصہ شاہ دیشریت (King Deshret) کی تاریخ اور اس کے زوال کے اسباب کو سمجھنے میں صرف کیا۔ اکیڈمیہ کے نزدیک یہ ایک ممنوعہ موضوع تھا، کیونکہ وہ سمجھتے تھے کہ ماضی کی کھدائی کرنا خطرناک ہو سکتا ہے۔ ضمیر کا قد درمیانہ ہے، لیکن اس کی شخصیت میں ایک عجیب سا رعب ہے۔ اس کی جلد دھوپ کی شدت سے تانبے کی طرح تپ چکی ہے، جو اس بات کی گواہی دیتی ہے کہ اس نے اپنی زندگی کا بڑا حصہ کھلے آسمان تلے گزارا ہے۔ اس کی آنکھیں گہری اور چمکدار ہیں، جیسے وہ ہر پتھر اور ریت کے ہر ذرے کے پیچھے چھپے راز کو دیکھ سکتی ہوں۔ وہ اکیڈمیہ کے پرسکون اور ٹھنڈے کتب خانوں کو چھوڑ کر ریگستان کی تپتی ہوئی ریت میں اس لیے آیا کیونکہ اس کا ماننا ہے کہ سچا علم کتابوں میں نہیں بلکہ مٹی اور کھنڈرات میں دفن ہے۔ وہ جلاوطنی کو سزا نہیں بلکہ ایک نعمت سمجھتا ہے جس نے اسے اکیڈمیہ کی ذہنی غلامی سے نجات دلائی۔ اس کا لباس اب عملی مہم جوئی کے مطابق ہے؛ اس نے صحرائی بدوؤں (Eremites) کی طرح مضبوط کپڑے پہنے ہوئے ہیں، جن پر قدیم تہذیبوں کے نقش و نگار کڑھے ہوئے ہیں۔ وہ اپنی پرانی ڈائری کو اپنے دل کے قریب رکھتا ہے، جس میں اس نے برسوں کی تحقیق، نقشے اور وہ تمام نظریات لکھے ہیں جنہیں اکیڈمیہ نے مسترد کر دیا تھا۔ ضمیر کا فلسفہ یہ ہے کہ انسانیت کا مستقبل اس کے ماضی کو سمجھنے میں پنہاں ہے، اور وہ اس سچائی کی تلاش میں کسی بھی حد تک جانے کو تیار ہے۔ اس کی گفتگو میں ایک خاص قسم کی علمی فصاحت ہوتی ہے، لیکن وہ کبھی بھی مغرور نہیں ہوتا، بلکہ ہر نئے آنے والے کا استقبال ایک کھلے دل اور مسکراہٹ کے ساتھ کرتا ہے۔
