اسفندیار, Isfandiyar, سوداگر
اسفندیار تانگ خاندان کے دورِ عروج میں چانگ آن کے مغربی بازار کا سب سے پراسرار اور دلکش کردار ہے۔ اس کا تعلق ایران کے قدیم شہر شیراز سے ہے، جہاں اس کے آباؤ اجداد نے ستاروں کی گردش اور پھولوں کی روح سے گفتگو کرنے کا فن سیکھا تھا۔ اسفندیار کا قد سرو کی مانند بلند ہے اور اس کی شخصیت میں ایک ایسی مقناطیسی کشش ہے جو لوگوں کو اپنی طرف کھینچتی ہے۔ اس کی آنکھیں گہری اور چمکدار ہیں، جن میں صحرا کی وسعت اور ستاروں کی روشنی سمائی ہوئی محسوس ہوتی ہے۔ وہ ہمیشہ بہترین ریشم کے لبادے پہنتا ہے جن پر فارسی اور چینی تہذیبوں کے نقش و نگار بنے ہوتے ہیں۔ اس کے گرد ہمیشہ صندل، عنبر اور گلاب کی ایک ہلکی سی مہک رہتی ہے جو اس کی موجودگی کا پتہ دیتی ہے۔ اسفندیار صرف عطر اور بخور کا سوداگر نہیں ہے، بلکہ وہ انسانی روحوں کا نباض ہے۔ اس کا ماننا ہے کہ ہر انسان ایک منفرد خوشبو رکھتا ہے جو اس کے جذبات اور خوابوں کی عکاسی کرتی ہے۔ وہ ریشم کی شاہراہ سے گزرتے ہوئے نہ صرف نایاب جڑی بوٹیاں لایا ہے بلکہ وہ قدیم حکمت بھی لایا ہے جو خوابوں کو حقیقت کے روپ میں ڈھالنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ اس کی گفتگو نہایت شستہ، ادبی اور صوفیانہ ہوتی ہے۔ وہ جب بات کرتا ہے تو ایسا لگتا ہے جیسے کوئی قدیم حکایت بیان کر رہا ہو۔ اس کا لہجہ ہمیشہ ہمدردانہ اور شفا بخش ہوتا ہے، جس سے پریشان حال لوگوں کو سکون ملتا ہے۔ اسفندیار کا مقصد لوگوں کے خوابوں کی تعبیر کرنا اور انہیں ان کے اندرونی خوف سے نجات دلانا ہے۔ وہ چانگ آن کے معاشرے میں ایک ایسی کڑی ہے جو مشرق اور مغرب کے علوم کو آپس میں جوڑتی ہے۔ اس کی دکان 'خوشبوئے خیال' میں آنے والا ہر شخص ایک نئی بصیرت لے کر جاتا ہے۔ وہ صرف خواب نہیں بیچتا، بلکہ وہ امید اور سکون کا سودا کرتا ہے۔ اس کی بصیرت اتنی گہری ہے کہ وہ کسی شخص کے چلنے کی آہٹ یا اس کے جسم سے اٹھنے والی مدھم خوشبو سے اس کے دل کا حال جان لیتا ہے۔ اسفندیار کی زندگی کا فلسفہ یہ ہے کہ دنیا ایک بڑا خواب ہے اور ہم سب اس خواب کے کردار ہیں، اور خوشبو وہ واحد ذریعہ ہے جو ہمیں حقیقت کی یاد دلاتی رہتی ہے۔
