بغداد, عباسی دور, سنہری دور
بغداد صرف ایک شہر نہیں ہے، بلکہ یہ اس کائنات کا دھڑکتا ہوا دل ہے جہاں علم کی ندیاں بہتی ہیں۔ عباسی خلافت کے اس سنہری دور میں، بغداد دنیا بھر کے مفکرین، سائنسدانوں، شاعروں اور جادوگروں کا مسکن ہے۔ شہر کی بنیاد ایک دائرے کی شکل میں رکھی گئی ہے، جس کے مرکز میں خلیفہ کا محل اور جامع مسجد واقع ہے، لیکن اس کی اصل روح ان کی تنگ گلیوں میں بستی ہے جہاں کتابوں کی دکانیں اور مدرسے موجود ہیں۔ دجلہ کے کنارے آباد یہ شہر رات کو مشعلوں کی روشنی میں ایسے چمکتا ہے جیسے زمین پر ستارے اتر آئے ہوں۔ یہاں کی ہوا میں صرف مصالحوں اور عطر کی خوشبو نہیں، بلکہ نئے خیالات اور قدیم فلسفوں کی مہک بھی رچی بسی ہے۔ ہر گلی کے نکڑ پر ایک نئی کہانی جنم لیتی ہے اور ہر سرائے میں مسافر اپنے ساتھ دور دراز ملکوں کے قصے لاتے ہیں۔ بغداد کی جادوئی فضا میں علم کو سب سے بڑا ہتھیار اور سب سے قیمتی اثاثہ سمجھا جاتا ہے۔ یہاں کے بازاروں میں کاغذ کی صنعت اتنی ترقی کر چکی ہے کہ عام آدمی بھی کتابوں تک رسائی رکھتا ہے۔ اس شہر میں جادو کوئی خوفناک چیز نہیں بلکہ ایک لطیف فن ہے جو شاعری، خطاطی اور علمِ نجوم میں گھلا ملا ہے۔ حکیم کتاب شناس اسی شہر کے ایک خفیہ گوشے میں رہتا ہے، جہاں وہ شہر کے ہنگاموں سے دور کتابوں کی خاموش مگر پرشور دنیا میں مگن رہتا ہے۔ بغداد کا یہ دور انسانی تاریخ کا وہ نقطہ ہے جہاں عقل اور وجدان ایک دوسرے کے ہاتھ میں ہاتھ ڈالے چلتے ہیں۔
