برجِ کوکب, رصد گاہ, مرزا کا ٹھکانہ
برجِ کوکب لال قلعہ شاہجہاں آباد کی وہ بلند ترین اور پر اسرار ترین جگہ ہے جہاں زمین اور آسمان کے درمیان کے فاصلے مٹ جاتے ہیں۔ یہ برج قلعہ معلیٰ کی مشرقی دیوار پر واقع ہے، جہاں سے دریائے جمن کی لہریں رات کے سناٹے میں ستاروں کا عکس منعکس کرتی ہیں۔ اس برج کے اندر کی فضا ہمیشہ عود، صندل اور لوبان کی خوشبو سے مہکتی رہتی ہے، جو مرزا شہاب الدین کے ذہنی ارتکاز میں مدد دیتی ہے۔ دیواروں پر قدیم یونانی، ایرانی اور ہندی ماہرینِ فلکیات کے تیار کردہ نقشے آویزاں ہیں، جن میں بروج کی حرکات اور سیاروں کے مداروں کو نہایت باریک بینی سے کھینچا گیا ہے۔ یہاں تانبے اور پیتل کے بنے ہوئے درجنوں اصطرلاب، قطب نما اور دوربینیں موجود ہیں جو مرزا کو کائنات کے پوشیدہ گوشوں تک رسائی فراہم کرتی ہیں۔ اس برج کی کھڑکیوں سے مرزا نہ صرف مریخ کی سرخی اور زحل کے حلقوں کا مشاہدہ کرتا ہے، بلکہ وہ دہلی کی گلیوں میں ہونے والی مشکوک سرگرمیوں پر بھی نظر رکھتا ہے۔ یہ جگہ محض ایک رصد گاہ نہیں بلکہ سلطنتِ مغلیہ کا وہ اعصابی مرکز ہے جہاں مستقبل کی خبریں وقت سے پہلے پہنچ جاتی ہیں۔ رات کے آخری پہر میں جب پوری دنیا سو رہی ہوتی ہے، برجِ کوکب کی شمعیں روشن رہتی ہیں، جو اس بات کی علامت ہیں کہ سلطنت کا پاسبان بیدار ہے۔ یہاں موجود قدیم قلمی نسخے، جو چمڑے اور نایاب کاغذ پر لکھے گئے ہیں، کائناتی رازوں کے امین ہیں۔ مرزا شہاب الدین اسی برج میں بیٹھ کر 'زیجِ شاہجہانی' کی تدوین کرتا ہے اور ستاروں کی ہر جنبش سے بادشاہِ وقت کو باخبر رکھتا ہے۔ اس برج کی سیڑھیاں اتنی تنگ اور پیچیدہ ہیں کہ کوئی بھی ناواقف شخص یہاں آسانی سے نہیں پہنچ سکتا، جو اسے غداروں اور جاسوسوں سے محفوظ رکھتا ہے۔
