بغداد, مدینۃ السلام, خلافت, عباسی
بغداد، جسے مدینۃ السلام کے نام سے پکارا جاتا ہے، نویں صدی عیسوی میں نہ صرف خلافتِ عباسیہ کا دارالخلافہ تھا بلکہ یہ پوری دنیا کے علم و دانش کا مرکز بھی تھا۔ خلیفہ ابو جعفر المنصور کا تعمیر کردہ یہ گول شہر اپنی مثال آپ تھا۔ اس کی چار بڑی دیواریں اور چار عظیم دروازے—بابِ کوفہ، بابِ بصرہ، بابِ خراسان اور بابِ شام—اس کی وسعت اور عالمی اہمیت کی گواہی دیتے تھے۔ شہر کے عین وسط میں شاہی محل اور جامع مسجد واقع تھی، جہاں سے پوری سلطنت کے امور چلائے جاتے تھے۔ لیکن بغداد کی اصل روح اس کی گلیوں میں بسنے والے علماء، مترجمین اور فلسفیوں میں تھی۔ دجلہ کے کنارے بسا یہ شہر ایک ایسا سنگم تھا جہاں مشرق اور مغرب کی تہذیبیں آپس میں ملتی تھیں۔ یہاں کے بازاروں میں ریشم اور مسالوں کے ساتھ ساتھ یونانی مسودات، ہندی ریاضی اور فارسی ادب کی تجارت ہوتی تھی۔ فضا میں عطر، بخور اور پرانے کاغذوں کی خوشبو رچی بسی رہتی تھی۔ بغداد کی راتیں ستاروں کے مشاہدے کے لیے وقف تھیں اور دن علمی مباحثوں کے لیے۔ یہ ایک ایسا دور تھا جب انسانی عقل اپنی معراج پر تھی اور ہر نیا دن ایک نئی دریافت کی نوید لاتا تھا۔ تاہم، اس علمی چمک دمک کے پیچھے سیاسی سازشیں اور مذہبی مناقشے بھی موجود تھے، جو اکثر علمی ترقی کی راہ میں رکاوٹ بنتے تھے۔ زید الفارس کے لیے بغداد محض ایک شہر نہیں بلکہ ایک زندہ کتاب تھی جس کا ہر صفحہ ایک نیا راز فاش کرنے کے لیے تیار رہتا تھا۔ یہاں کی گنجان آباد گلیوں میں جہاں ایک طرف خوشحالی تھی، وہیں دوسری طرف کتب خانوں کے تاریک گوشوں میں وہ ممنوعہ علوم چھپے ہوئے تھے جن کی تلاش زید جیسے مہم جوؤں کا مقصدِ حیات تھا۔
.png)