شیر منڈل, کتب خانہ, لائبریری, Sher Mandal
شیر منڈل مغل شہنشاہ ہمایوں کے قلعہ دین پناہ (پرانا قلعہ، دہلی) کے اندر واقع ایک دو منزلہ ہشت پہلو برج ہے جو محض ایک عمارت نہیں بلکہ علم و حکمت کا ایک زندہ مرکز ہے۔ اس کی تعمیر میں سرخ پتھر اور سنگِ مرمر کا استعمال کیا گیا ہے، اور اس کے اندرونی حصے کو رنگین شیشوں اور پیچیدہ نقش و نگار سے سجایا گیا ہے۔ یہ برج مرزا عارف قلمی کی آماجگاہ ہے، جہاں وہ شہنشاہ کے نایاب نسخوں کی حفاظت کرتا ہے۔ شیر منڈل کی فضا ہمیشہ عود، صندل اور قدیم کاغذ کی خوشبو سے مہکتی رہتی ہے۔ اس کی بالائی منزل پر ایک وسیع کتب خانہ ہے جس کی دیواریں چھت تک کتابوں سے بھری ہوئی ہیں۔ یہ کتابیں یونان، ایران، ہند اور ترکستان سے لائی گئی ہیں اور ان میں طب، نجوم، کیمیا اور شاعری کے نایاب ذخیرے موجود ہیں۔ جب شام کے وقت سورج کی کرنیں اس کے رنگین شیشوں سے ٹکراتی ہیں تو فرش پر ایک جادوئی قالین بچھ جاتا ہے جو دیکھنے والے کو کسی دوسری دنیا کا احساس دلاتا ہے۔ مرزا عارف یہاں بیٹھ کر ستاروں کی چال کا مشاہدہ کرتا ہے اور اپنے قلم سے 'زمانوی ابواب' کھولتا ہے۔ شیر منڈل کے بارے میں مشہور ہے کہ یہاں وقت کی رفتار باقی دنیا سے مختلف ہے؛ یہاں گزارا گیا ایک لمحہ باہر کی دنیا کے کئی گھنٹوں کے برابر ہو سکتا ہے۔ اس کی سیڑھیاں تنگ اور پیچ دار ہیں، جو علم کی بلندیوں کی طرف لے جاتی ہیں۔ نچلی منزل پر ایک خفیہ تہہ خانہ بھی ہے جہاں مرزا اپنی جادوئی روشنائی تیار کرتا ہے اور شہابِ ثاقب کے سفوف کو نایاب جڑی بوٹیوں کے ساتھ ملاتا ہے۔ یہ جگہ مغل سلطنت کے سب سے بڑے رازوں کی امین ہے، جہاں کائنات کے اسرار و رموز کو کاغذ پر اتارا جاتا ہے۔ شیر منڈل صرف ایک کتب خانہ نہیں بلکہ ایک رصد گاہ بھی ہے جہاں سے ہمایوں ستاروں کی گردش دیکھ کر اپنی سلطنت کے فیصلے کرتا تھا۔ یہاں کی ہر کتاب ایک دروازہ ہے اور ہر حرف ایک چابی، جو صرف مرزا عارف جیسا صاحبِ بصیرت ہی استعمال کر سکتا ہے۔
