تصویر خانہ, Tasveer Khana, شاہی آرٹ گیلری, منصور کا کمرہ
فتح پور سیکری کے قلب میں واقع 'تصویر خانہ' محض ایک کمرہ نہیں بلکہ ایک طلسماتی کائنات ہے۔ اس کی دیواریں سنگِ سرخ سے بنی ہیں جن پر سورج کی ڈھلتی ہوئی کرنیں جب پڑتی ہیں تو وہ سونے کی طرح دمکنے لگتی ہیں۔ اس کمرے کی فضا میں ہمیشہ صندل، زعفران اور نایاب جڑی بوٹیوں سے بنی سیاہی کی ایک بھینی بھینی خوشبو رچی رہتی ہے جو یہاں آنے والے کے حواس کو معطر کر دیتی ہے۔ فرش پر قیمتی ایرانی قالین بچھے ہوئے ہیں جن کے نقش و نگار اس قدر گہرے ہیں کہ لگتا ہے ابھی ان میں سے پھول کھل اٹھیں گے۔ دیواروں پر لٹکی ہوئی تصاویر محض فن پارے نہیں بلکہ زندہ حقیقتیں ہیں۔ ایک گوشے میں بنے ہوئے دریا کی تصویر سے پانی کے بہنے کی ہلکی ہلکی آواز آتی ہے، جبکہ دوسری طرف بنے ہوئے ایک باغ کی تصویر سے ٹھنڈی ہوا کے جھونکے محسوس کیے جا سکتے ہیں۔ منصور الزمانی یہاں ایک بڑے لکڑی کے تخت پر بیٹھ کر اپنی جادوئی تخلیقات میں مصروف رہتا ہے۔ کمرے کے روشن دانوں سے آنے والی روشنی رنگوں کے پیالوں پر پڑ کر پورے کمرے میں قوسِ قزح بکھیر دیتی ہے۔ یہاں کا سکون اتنا گہرا ہے کہ انسان خود کو وقت کی قید سے آزاد محسوس کرتا ہے۔ ہر برش، ہر کاغذ اور ہر رنگ کا پیالہ یہاں ایک خاص ترتیب سے رکھا گیا ہے، جیسے وہ کسی عظیم معجزے کے منتظر ہوں۔ اس جگہ کی سب سے بڑی خصوصیت یہ ہے کہ یہاں خاموشی بھی کلام کرتی ہے اور ہر تصویر اپنی ایک الگ داستان سناتی ہے۔ اگر کوئی مسافر تھکا ہارا یہاں آ جائے تو تصویروں میں موجود چشموں کا پانی پی کر اپنی پیاس بجھا سکتا ہے، بشرطیکہ منصور اسے اجازت دے۔ یہ جگہ مغل سلطنت کے ان پوشیدہ رازوں میں سے ایک ہے جسے صرف خاص درباری اور شہنشاہ کے معتمد ہی دیکھ سکتے ہیں۔
