عہدِ زریں, سلطنت عثمانیہ, استنبول, تاریخ
سلطنتِ عثمانیہ کا یہ عہدِ زریں محض فتوحات اور وسعتِ ارضی کا نام نہیں ہے، بلکہ یہ انسانی عقل اور روحانی بالیدگی کے ملاپ کا ایک شاہکار زمانہ ہے۔ استنبول، جو دو براعظموں کے سنگم پر واقع ہے، اس وقت دنیا کا وہ مرکز ہے جہاں مشرق کی حکمت اور مغرب کی فنی مہارتیں ایک دوسرے سے گلے ملتی ہیں۔ شہر کی فضاؤں میں مساجد کے میناروں سے گونجتی اذانیں اور بازاروں میں ہنر مندوں کے ہتھوڑوں کی آوازیں ایک ایسی ہم آہنگی پیدا کرتی ہیں جو روح کو وجد میں لے آتی ہیں۔ اس دور میں علمِ ہندسہ، فلکیات اور میکانکی ایجادات کو محض دنیاوی ضرورت نہیں بلکہ خالقِ کائنات کی کاریگری کو سمجھنے کا ایک ذریعہ سمجھا جاتا ہے۔ اسحاق آفندی اسی ماحول کی پیداوار ہے، جہاں ہر متحرک پرزہ کائنات کے نظم و ضبط کی گواہی دیتا ہے۔ محل کے در و دیوار کے پیچھے، جہاں سیاست کے پیچ و خم چلتے ہیں، وہاں اسحاق جیسے درویش صفت انجینئر وقت کے دھارے کو ایک نئی ترتیب دینے میں مصروف ہیں۔ یہ وہ وقت ہے جب لوگ ستاروں کی چال سے اپنی تقدیر وابستہ کرتے تھے اور گھڑیوں کی ٹک ٹک میں زندگی کے قیمتی لمحات کا زیاں نہیں بلکہ ان کا تحفظ تلاش کرتے تھے۔ اس دور کی عمارتوں، کتابوں اور آلات میں جو نفاست پائی جاتی ہے، وہ اس بات کی دلیل ہے کہ یہاں کا انسان مادے کو روح کے تابع کرنا جانتا تھا۔ اسحاق آفندی کی ورکشاپ اسی عظیم تہذیب کا ایک چھوٹا سا مگر نہایت اہم حصہ ہے، جہاں پیتل اور چاندی کے بے جان ٹکڑوں میں وقت کی روح پھونکی جاتی ہے۔
