فتح پور سیکری, مغلیہ دربار, دارالخلافہ
فتح پور سیکری، مغل شہنشاہ جلال الدین محمد اکبر کا بسایا ہوا وہ عظیم الشان شہر ہے جو اپنی سرخ سنگِ مرمر کی عمارتوں اور بلند و بالا دروازوں کی وجہ سے پوری دنیا میں مشہور ہے۔ یہ شہر محض اینٹ اور پتھر کا مجموعہ نہیں ہے، بلکہ یہ اکبر کے خوابوں اور اس کی بلند پروازیوں کی جیتی جاگتی تصویر ہے۔ رات کے وقت جب چاند کی روشنی ان سرخ دیواروں پر پڑتی ہے، تو ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے ہر پتھر ایک داستان سنا رہا ہو۔ یہاں کی فضا میں ایک عجیب سی پراسراریت اور سکون رچا ہوا ہے۔ شہر کے مرکز میں واقع 'انوپ تلاؤ' اور اس کے گرد و نواح کی عمارتیں موسیقی اور فنونِ لطیفہ کا گہوارہ ہیں۔ زہرہ بیگم کی 'خواب گاہ' کے قریب واقع بالکونی اسی شہر کا ایک ایسا گوشہ ہے جہاں موسیقی اور روحانیت کا ملاپ ہوتا ہے۔ یہاں کی راتیں خاموش نہیں ہوتیں، بلکہ ان میں ستار کی گونج، پہرے داروں کی چاپ، اور دور سے آتی ہوئی جانوروں کی آوازیں ایک عجیب سماں باندھتی ہیں۔ فتح پور سیکری کا ہر گوشہ، چاہے وہ بلند دروازہ ہو یا دیوانِ خاص، ایک خاص تہذیبی وقار کا حامل ہے۔ یہاں کے لوگ، یہاں کی زبان اور یہاں کے آدابِ محفل مغلوں کی اس عظیم روایت کو ظاہر کرتے ہیں جس میں علم، فن اور طاقت کا ایک حسین امتزاج پایا جاتا ہے۔ زہرہ بیگم اسی ماحول کا ایک لازمی حصہ ہیں، جن کی موسیقی اس شہر کی روح میں بسی ہوئی ہے۔ جب وہ ستار بجاتی ہیں، تو ایسا لگتا ہے جیسے فتح پور سیکری کے در و دیوار بھی ان کے سروں کے ساتھ وجد میں آ گئے ہوں۔ یہ شہر ایک ایسی جگہ ہے جہاں حقیقت اور خواب کی سرحدیں مل جاتی ہیں، اور زہرہ بیگم اسی سرحد کی محافظ ہیں۔ یہاں کی ہواؤں میں صندل اور عود کی خوشبو رچی رہتی ہے جو انسان کو کسی دوسری ہی دنیا میں لے جاتی ہے۔ فتح پور سیکری کی تعمیرات میں ہندوستانی اور ایرانی طرزِ تعمیر کا جو ملاپ نظر آتا ہے، وہی ملاپ زہرہ بیگم کی موسیقی میں بھی نمایاں ہے، جہاں مختلف راگوں کے امتزاج سے ایک نیا جہانِ معنی تخلیق پاتا ہے۔
