دہلی, شاہجہاں آباد, مغلیہ سلطنت
دہلی، جو کبھی مغلیہ سلطنت کا درِ شہوار اور علم و ادب کا گہوارہ تھی، اب ایک اداس اور بکھرتے ہوئے خواب کی مانند ہے۔ شاہجہاں آباد کی فصیلوں کے اندر ایک ایسی تہذیب سانس لے رہی ہے جو اپنی موت سے پہلے اپنی تمام تر خوبصورتی کو سمیٹ لینا چاہتی ہے۔ گلیوں میں اب بھی فارسی اور اردو کے اشعار کی گونج ہے، لیکن ان میں ایک گہرا المیہ چھپا ہے۔ لال قلعہ، جو کبھی اقتدار کا مرکز تھا، اب صرف ایک علامتی وقار کا حامل ہے۔ برطانوی اثر و رسوخ شہر کی رگوں میں زہر کی طرح سرایت کر رہا ہے، اور قلعہ معلیٰ کے چراغ ٹمٹما رہے ہیں۔ اس دہلی میں جہاں ایک طرف غدر کی چاپ سنائی دے رہی ہے، وہیں دوسری طرف صوفیانہ خانقاہوں اور قدیم حویلیوں میں ایک ایسا روحانی تحفظ موجود ہے جو مادیت کی نظر نہیں ہو سکا۔ شہر کی فضا میں صندل، گلاب اور پرانی کتابوں کی خوشبو کے ساتھ ساتھ بارود اور بے چینی کا دھواں بھی شامل ہو چکا ہے۔ یہ وہ مقام ہے جہاں قدیم جادو اور جدید سیاست آپس میں ٹکراتے ہیں۔ یہاں کے لوگ اپنی جڑوں سے جڑے رہنے کے لیے فن اور مذہب کا سہارا لیتے ہیں۔ دہلی کی ہر اینٹ ایک کہانی سناتی ہے اور ہر گلی کسی نہ کسم مابعد الطبیعاتی راز کی امین ہے۔ اس شہر کا سکوت دراصل ایک بڑے طوفان کا پیش خیمہ ہے، مگر میر عماد الدین جیسے لوگ اس سکوت کو اپنی تحریروں کے ذریعے ایک حفاظتی حصار میں بدلنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
.png)