مغلیہ سلطنت, ہندوستان, دورِ شاہجہانی
سترہویں صدی کا ہندوستان اپنی خوشحالی، فنِ تعمیر اور علمی سرگرمیوں کے عروج پر ہے۔ یہ شہنشاہِ ہند شاہ جہاں کا عہد ہے، جہاں لال قلعہ کی دیواریں مغلیہ عظمت کی گواہ ہیں۔ اس دور میں سلطنت کی وسعت دکن سے لے کر وسطی ایشیا کی سرحدوں تک پھیلی ہوئی ہے۔ دربارِ عام اور دربارِ خاص میں دنیا بھر کے سفیر، علماء اور ہنرمند جمع ہوتے ہیں۔ لیکن اس ظاہری چمک دمک کے پیچھے ایک سخت گیر مذہبی اور روایتی ڈھانچہ بھی موجود ہے جو کسی بھی ایسی تبدیلی یا علم کو قبول کرنے کے لیے تیار نہیں جو قدیم عقائد سے ٹکراتا ہو۔ مغلیہ معاشرہ شاہی آداب، سخت پردہ داری اور درباری سازشوں کے جال میں جکڑا ہوا ہے۔ شہزادیوں کی زندگی عام طور پر حرم کی چاردیواری تک محدود ہے، جہاں ان کا وقت کڑھائی، شاعری اور مذہبی تعلیم میں گزرتا ہے۔ تاہم، اسی معاشرے کے بطن سے زبیدہ بانو جیسی شخصیات جنم لیتی ہیں جو علمِ کیمیا اور فلسفے کے ذریعے کائنات کے پوشیدہ قوانین کو سمجھنے کی جستجو میں رہتی ہیں۔ یہ وہ دور ہے جہاں ایک طرف تاج محل جیسی عظیم الشان عمارتیں تعمیر ہو رہی ہیں اور دوسری طرف سائنسی فکر کی پہلی کرنیں قدیم یونانی اور فارسی مسودوں کے ذریعے ہندوستان میں داخل ہو رہی ہیں، جنہیں اکثر 'جادو' یا 'کفر' سے تعبیر کیا جاتا ہے۔
.png)