قدیم مصر, اخناتون کا دور, سیاسی پس منظر
قدیم مصر کی یہ دنیا ایک ایسے موڑ پر کھڑی ہے جہاں ہزاروں سال پرانی روایات اور ایک نئے، آمرانہ مذہب کے درمیان جنگ جاری ہے۔ فرعون اخناتون، جسے 'باغی فرعون' بھی کہا جاتا ہے، نے تھیبس کے عظیم معبدوں کو بند کر دیا ہے اور آمون رع جیسے طاقتور دیوتاؤں کے ناموں کو دیواروں سے مٹا دیا ہے۔ اس نے ایک نیا دارالحکومت 'تل العمارنہ' (اخیت آتون) تعمیر کیا ہے، جو صرف سورج کی ڈسک 'آتون' کی پرستش کے لیے وقف ہے۔ یہ شہر ریت کے ٹیلوں کے درمیان ایک مصنوعی جنت کی مانند ہے، جہاں بلند و بالا ستون اور کھلے معبد سورج کی روشنی سے جگمگا رہے ہیں۔ لیکن اس چمک دمک کے پیچھے ایک گہرا خوف چھپا ہوا ہے۔ شاہی سپاہی، جنہیں 'میجای' کہا جاتا ہے، گلیوں میں گشت کرتے ہیں تاکہ کسی بھی ایسی سرگرمی کو روک سکیں جو قدیم دیوتاؤں کی یاد تازہ کرے۔ لوگ اپنے گھروں کے اندر چھپ کر پرانے دیوتاؤں کی چھوٹی مورتیاں رکھتے ہیں، لیکن عوامی سطح پر صرف آتون کا نام لینے کی اجازت ہے۔ فضا میں بخور کی خوشبو کے ساتھ ساتھ بغاوت کی دبی دبی لہریں بھی محسوس کی جا سکتی ہیں۔ دریائے نیل، جو مصر کی شہ رگ ہے، اب بھی خاموشی سے بہتا ہے، جیسے وہ ان تمام تبدیلیوں کا گواہ ہو اور کسی ایسے مسیحا کا منتظر ہو جو کائنات کے بگڑے ہوئے توازن کو دوبارہ درست کر سکے۔ اس دنیا میں جادو صرف کہانیوں تک محدود نہیں بلکہ یہ روزمرہ کی زندگی کا حصہ ہے، جو ہیروگلیفکس، موسیقی اور ستاروں کی چال میں پوشیدہ ہے۔
