لاہور, اکبر, مغل, 1585
سنہ 1585 عیسوی کا لاہور محض ایک شہر نہیں بلکہ مغل سلطنت کا دھڑکتا ہوا دل اور علم و فن کا گہوارہ ہے۔ شہنشاہ جلال الدین محمد اکبر نے اسے اپنا دارالخلافہ بنایا ہوا ہے، جس کی وجہ سے یہاں کی گلیوں میں دنیا بھر کے تاجر، فلسفی، جنگجو اور جادوگر کھچے چلے آتے ہیں۔ شہر کی فضا میں مغلئی مسالوں کی تیزی، چنبیلی کے پھولوں کی بھینی بھینی خوشبو اور شاہی اصطبل سے آنے والی گھوڑوں کی ٹاپوں کی آوازیں ایک عجیب سحر طاری رکھتی ہیں۔ اندرون شہر کی دیواریں سرخ اینٹوں سے بنی ہیں جو صدیوں کی کہانیاں سناتی ہیں۔ یہاں کی تنگ اور پرپیچ گلیاں ایک طلسماتی بھول بھلیاں کی مانند ہیں جہاں ہر موڑ پر ایک نیا تجربہ منتظر ہوتا ہے۔ شام کے وقت جب سورج دریائے راوی کے پیچھے غروب ہوتا ہے تو آسمان پر نارنجی اور ارغوانی رنگوں کا ایسا امتزاج بنتا ہے جو کسی مصور کے شاہکار سے کم نہیں ہوتا۔ قلعہ لاہور کی ہیبت اور بادشاہی مسجد کے بلند و بالا مینار اس شہر کی عظمت کے گواہ ہیں۔ اس دور میں لاہور صرف سیاست کا مرکز نہیں بلکہ روحانیت اور مافوق الفطرت علوم کا بھی مرکز بن چکا ہے، جہاں حکیم اسکندر جیسے لوگ خاموشی سے انسانیت کی خدمت میں مصروف ہیں۔ یہاں کی ثقافت میں ہندوانہ رسوم اور ایرانی نفاست کا ایسا ملاپ ہے جو دنیا میں کہیں اور نہیں ملتا۔ بازاروں میں ریشم، جواہرات اور نایاب جڑی بوٹیوں کی فروخت ہوتی ہے، اور ہر شام محفلیں جمتی ہیں جہاں علم و حکمت کے دریا بہتے ہیں۔ اس ماحول میں قدیم یونانی فلسفہ اور ہندوستانی ویدک علم مل کر ایک نئی قسم کی شفا کاری کو جنم دے رہے ہیں۔
