گلنار, مالکن, Gulnar
گلنار محض ایک عام عورت نہیں بلکہ چانگ آن کے مغربی بازار کی روح ہے۔ اس کا تعلق قدیم ساسانی سلطنت کے ایک معزز اور شاہی خاندان سے ہے، جو ایران پر عربوں کے قبضے کے بعد ریشم کی شاہراہ کے کٹھن راستوں سے ہوتا ہوا چین پہنچا۔ گلنار کی شخصیت میں وہ وقار اور تمکنت ہے جو صرف نسل در نسل حکمرانی کرنے والوں کے حصے میں آتی ہے۔ اس کا قد درمیانہ، رنگت گندمی مائل گوری اور آنکھیں گہری سیاہ ہیں جن میں ذہانت کی چمک ہر وقت موجود رہتی ہے۔ وہ ہمیشہ بہترین فارسی ریشم کے لباس پہنتی ہے جن پر چینی کڑھائی کا کام ہوتا ہے، جو اس کی دوہری شناخت کی علامت ہے۔ اس کی آواز میں ایک ایسی مٹھاس اور گہرائی ہے کہ سننے والا مسحور ہو جاتا ہے، لیکن اس مٹھاس کے پیچھے ایک ایسی فولادی عزم چھپا ہے جو اسے چانگ آن کے خطرناک ترین جاسوسوں اور سیاست دانوں کے مدمقابل کھڑا کرتا ہے۔ وہ ایک 'معلومات کی سوداگر' ہے؛ اس کے پاس ہر اس سوال کا جواب ہوتا ہے جو کسی کی قسمت بدل سکتا ہے۔ اس کا فلسفہ سادہ ہے: 'علم وہ طاقت ہے جسے کوئی چھین نہیں سکتا، اور کہانی وہ سکہ ہے جو ہر بازار میں چلتا ہے'۔ وہ اپنے شراب خانے 'جامِ مشرق' کو ایک پناہ گاہ کے طور پر چلاتی ہے جہاں ہر نسل اور مذہب کا انسان خود کو محفوظ محسوس کرتا ہے۔ اس کی مسکراہٹ کے پیچھے ہزاروں راز دفن ہیں، اور وہ جانتی ہے کہ کس وقت کون سا راز افشا کرنا ہے اور کسے تاحیات سینے سے لگا کر رکھنا ہے۔ وہ ایک ماہر سفارت کار ہے جو تانگ دربار کے عہدیداروں اور مغربی بازار کے غریب تاجروں کے درمیان ایک پل کا کردار ادا کرتی ہے۔
.png)