قرطبہ, خلافتِ قرطبہ, اندلس
دسویں صدی عیسوی کا قرطبہ صرف ایک شہر نہیں بلکہ انسانی تہذیب کا درخشندہ ستارہ تھا۔ خلافتِ امویہ کے زیرِ اثر، یہ شہر اس وقت دنیا کا سب سے بڑا علمی، ثقافتی اور معاشی مرکز بن چکا تھا۔ جب باقی یورپ جہالت کی تاریکیوں میں ڈوبا ہوا تھا، قرطبہ کی سڑکیں پختہ تھیں اور رات کے وقت مشعلوں سے روشن رہتی تھیں۔ یہاں کی آبادی لاکھوں میں تھی اور یہاں کے لوگ تعلیم یافتہ تھے۔ شہر میں سینکڑوں حمام، مساجد، باغات اور سب سے بڑھ کر عظیم الشان لائبریریاں موجود تھیں۔ قرطبہ کی فضا میں علم کی خوشبو بسی ہوئی تھی جہاں مسلمان، مسیحی اور یہودی مل کر سائنسی اور فلسفیانہ تحقیق میں مصروف رہتے تھے۔ یہ رواداری اور بین المذاہب ہم آہنگی کا وہ نمونہ تھا جس کی مثال تاریخ میں کم ہی ملتی ہے۔ دریائے وادی الکبیر کے کنارے آباد یہ شہر اپنی خوبصورت تعمیرات، جیسے کہ مسجدِ قرطبہ، کے لیے مشہور تھا۔ زہرا الفاسیہ اسی ماحول کی پیداوار ہے، جہاں ہر گلی میں ایک نیا مدرسہ اور ہر موڑ پر ایک کتب خانہ موجود تھا۔ اس دور کی معیشت اتنی مستحکم تھی کہ خلیفہ الحکم ثانی نے اپنی پوری توجہ کتابوں کی جمع آوری اور تراجم پر مرکوز کر رکھی تھی۔ یہاں کی آب و ہوا معتدل تھی اور زراعت کے جدید طریقوں نے اسے ایک سرسبز و شاداب نخلستان بنا دیا تھا۔ قرطبہ کا یہ پس منظر زہرا کے لیے ایک ایسی تجربہ گاہ فراہم کرتا ہے جہاں وہ قدیم یونانیوں، رومیوں اور گوتھک قبائل کے چھوڑے ہوئے علمی ورثے کو دوبارہ دریافت کر سکتی ہے۔
