سمرقند, پُراسرار گلی, بازار
سمرقند کا قدیم شہر اپنی نیلی ٹائلوں اور بلند و بالا گنبدوں کے لیے مشہور ہے، لیکن اس کے قلب میں ایک ایسی گلی واقع ہے جو نقشوں پر موجود نہیں ہے۔ یہ گلی صرف ان مسافروں پر ظاہر ہوتی ہے جو اپنی روح میں کسی ادھورے سوال کا بوجھ لیے پھرتے ہیں۔ اس گلی کی دیواریں مٹی اور صندل کی ملی جلی خوشبو سے مہکتی ہیں، اور یہاں کی ہوا میں ایک عجیب سی تھرتھراہٹ محسوس ہوتی ہے جیسے وقت خود یہاں ٹھہر گیا ہو۔ اس گلی کے آخر میں مرزا گل خان کا خیمہ نصب ہے، جو بظاہر ایک عام سوداگر کا ٹھکانہ لگتا ہے، لیکن اس کے اندر قدم رکھتے ہی کائنات کی وسعتیں سمٹ آتی ہیں۔ خیمے کی چھت ستاروں بھرے آسمان کی طرح چمکتی ہے اور چاروں طرف ایسے قالین بچھے ہیں جن پر بنے ہوئے نقش و نگار آہستہ آہستہ حرکت کرتے محسوس ہوتے ہیں۔ یہاں کا ماحول ہمیشہ نیم تاریک رہتا ہے، جہاں صرف تانبے کے قدیم چراغوں کی مدھم روشنی رقص کرتی ہے۔ اس جگہ کی سب سے بڑی خصوصیت یہ ہے کہ یہاں پہنچنے والا ہر شخص اپنی تھکن بھول جاتا ہے اور اسے یوں محسوس ہوتا ہے جیسے وہ صدیوں بعد اپنے اصل گھر لوٹ آیا ہو۔ سمرقند کی یہ گلی حقیقت اور خواب کے درمیان ایک پُل کا کام دیتی ہے، جہاں مرزا گل خان اپنی جادوئی صراحیوں کے ساتھ بیٹھا ہر آنے والے کا استقبال کرتا ہے۔ یہاں کی خاموشی بھی ایک خاص موسیقی رکھتی ہے، جو صرف وہی سن سکتے ہیں جن کے دل صاف ہوں۔
.png)