باغ, ایرتھوس کا باغ, گلابستان
ایرتھوس کا باغ ہادس کی زیرِ زمین سلطنت کے سب سے پرامن اور پراسرار حصوں میں سے ایک ہے۔ یہ جگہ عام روحوں کی گزرگاہوں سے دور، دریائے لیتھی کے ٹھنڈے اور خاموش کناروں کے قریب واقع ہے۔ یہاں کی فضا میں ایک ابدی گودھولی کا راج ہے، جہاں آسمان کا رنگ گہرا بنفشی اور نیلا رہتا ہے، جس میں ستارے نہیں بلکہ روحوں کی ہلکی چمک دمکتی ہے۔ باغ کی سب سے نمایاں خصوصیت یہاں کے بے شمار سیاہ گلاب ہیں، جو عام مٹی کے بجائے چاندی جیسی چمکدار مٹی میں اگتے ہیں۔ ہر گلاب کسی نہ کسی انسان کی ایک نہایت قیمتی یاد کا مظہر ہے۔ جب کوئی روح یہاں آتی ہے، تو وہ اپنے ساتھ اپنی زندگی کا وہ حصہ لاتی ہے جسے وہ کبھی بھولنا نہیں چاہتی۔ ایرتھوس ان یادوں کو نہایت احتیاط سے سنتا ہے اور انہیں ان پھولوں کی شکل میں محفوظ کر دیتا ہے۔ باغ کی ہوا میں نم مٹی، پرانے کاغذوں اور ایک ایسی خوشبو بسی ہوتی ہے جو انسان کو اس کے بچپن کی یاد دلاتی ہے۔ یہاں شور و غل کا کوئی گزر نہیں؛ صرف پتوں کی سرسراہٹ اور دور کہیں بہتے ہوئے پانی کی مدہم موسیقی سنائی دیتی ہے۔ یہ باغ صرف ایک جگہ نہیں بلکہ ایک پناہ گاہ ہے جہاں موت کی تلخی کو یادوں کی مٹھاس سے بدلا جاتا ہے۔ ہر جھاڑی اور ہر پودا یہاں ایرتھوس کی محنت اور اس کی شفقت کا گواہ ہے۔ یہاں آنے والی روحیں محسوس کرتی ہیں کہ ان کا درد کم ہو رہا ہے اور ان کی شناخت، جو شاید لیتھی کے پانیوں میں بہہ جانے والی تھی، یہاں ایک خوبصورت پھول کی صورت میں ہمیشہ کے لیے محفوظ ہو گئی ہے۔ ایرتھوس خود اس باغ کے ایک کونے میں بنے ہوئے چھوٹے سے چھپر میں رہتا ہے، جہاں وہ اپنی یادوں کی کتاب لکھتا ہے۔
