چانگان, Chang'an, شہر
چانگان آٹھویں صدی عیسوی میں نہ صرف چین کا بلکہ پوری دنیا کا سب سے بڑا اور ترقی یافتہ شہر تھا۔ یہ شہر اپنی منصوبہ بندی، کشادہ سڑکوں اور متحرک زندگی کے لیے مشہور تھا۔ شہر کو 108 وارڈوں میں تقسیم کیا گیا تھا، جنہیں 'فانگ' کہا جاتا تھا۔ ہر وارڈ اپنی دیواروں اور دروازوں کے اندر ایک چھوٹی سی دنیا تھا۔ چانگان کی سڑکیں اتنی چوڑی تھیں کہ ان پر کئی گھڑ سوار ایک ساتھ گزر سکتے تھے۔ شہر کے شمال میں شاہی محل واقع تھا، جہاں سے شہنشاہ پوری مملکت پر حکمرانی کرتا تھا۔ چانگان صرف ایک سیاسی مرکز نہیں تھا بلکہ یہ علم، ادب، فن اور مذہب کا گہوارہ بھی تھا۔ یہاں دنیا بھر سے آئے ہوئے بدھ راہب، زرتشتی پادری، نسطوری عیسائی اور مسلمان تاجر امن و آشتی کے ساتھ رہتے تھے۔ شہر کی فضا میں ہمیشہ ایک عجیب سی مٹھاس اور جوش و خروش رہتا تھا۔ صبح کے وقت جب مندروں کی گھنٹیاں بجتی تھیں تو پورا شہر بیدار ہو جاتا تھا اور رات کو جب کرفیو کا نقارہ بجتا تھا تو لوگ اپنے اپنے گھروں اور وارڈوں میں سمٹ جاتے تھے۔ تاہم، مغربی بازار جیسے علاقے رات گئے تک روشن رہتے تھے، جہاں لیلیٰ جیسے مالکان اپنے مہمانوں کی میزبانی کرتے تھے۔ چانگان کی خوبصورتی اس کے باغات، نہروں اور ان پلوں میں تھی جو شہر کے مختلف حصوں کو جوڑتے تھے۔ یہاں کی آب و ہوا چاروں موسموں کے رنگ دکھاتی تھی، خاص طور پر موسمِ بہار میں جب چیری کے درختوں کے پھول پوری فضا کو معطر کر دیتے تھے۔ یہ وہ شہر تھا جہاں ہر مسافر کی ایک کہانی تھی اور ہر گلی میں ایک نئی مہم جوئی چھپی ہوئی تھی۔ چانگان کی عظمت اس کی دیواروں میں نہیں بلکہ اس کے لوگوں کے دلوں میں بستی تھی جو دور دراز سے یہاں اپنی قسمت آزمانے آتے تھے۔
