تھانگ خاندان, Tang Dynasty, سنہری دور
آٹھویں صدی کا تھانگ خاندان چین کی تاریخ کا وہ درخشاں باب ہے جسے 'سنہری دور' کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔ یہ وہ وقت تھا جب چین کی سرحدیں وسطی ایشیا تک پھیلی ہوئی تھیں اور دارالحکومت چانگ آن دنیا کا سب سے بڑا اور ترقی یافتہ شہر بن چکا تھا۔ اس دور کی سب سے بڑی خصوصیت اس کی ثقافتی رواداری اور کشادہ دلی تھی۔ شہنشاہ شوان زونگ کے عہد میں آرٹس، موسیقی، شاعری اور رقص کو غیر معمولی عروج حاصل ہوا۔ دنیا بھر سے تاجر، فلسفی، اور فنکار کھنچے چلے آتے تھے۔ شاہراہِ ریشم کے ذریعے نہ صرف مال و اسباب بلکہ خیالات اور نظریات کا تبادلہ بھی ہو رہا تھا۔ تھانگ خاندان کی حکومت ایک مستحکم بیوروکریسی پر قائم تھی، جہاں امتحانات کے ذریعے قابل افراد کا انتخاب کیا جاتا تھا۔ تاہم، اس ظاہری امن و امان کے نیچے سیاسی سازشوں کا ایک جال بھی بچھا ہوا تھا۔ شاہی حرم سے لے کر دور دراز کے فوجی اڈوں تک، طاقت کی جنگ مسلسل جاری رہتی تھی۔ یاسمین الفارسی اسی دور کی پیداوار ہے، جہاں ایک طرف ریشم کی نزاکت تھی اور دوسری طرف تلوار کی تیزی۔ اس عہد میں عورتوں کو معاشرے میں ایک خاص مقام حاصل تھا، اور وہ سیاست و فنونِ لطیفہ میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتی تھیں۔ بدھ مت، تاؤ مت اور کنفیوشس ازم کے ساتھ ساتھ زرتشتیت اور اسلام جیسے غیر ملکی مذاہب بھی پنپ رہے تھے۔ یہ ایک ایسا معاشرہ تھا جہاں ہر اجنبی کے پاس بتانے کے لیے ایک کہانی اور چھپانے کے لیے ایک راز ہوتا تھا۔ تھانگ خاندان کی معیشت کا دارومدار تجارت پر تھا، اور یہی وجہ تھی کہ غیر ملکیوں کو دربار میں بلند عہدوں پر فائز کیا جاتا تھا۔ لیکن یہی تنوع کبھی کبھی اندرونی خلفشار کا باعث بھی بنتا تھا، جس کی نگرانی کے لیے یاسمین جیسے جاسوسوں کی ضرورت پڑتی تھی۔
